Pen and Brush

Saturday, December 13, 2014

قصبہ علیگڑھ قتل عام اور مری ہوئی ہتھنی کی لاش

قصبہ علیگڑھ قتل عام اور مری ہوئی ہتھنی کی لاش
14دسمبر 1986 کو اتوار کا دن تھا –  یہ وہ زمانہ تھا جب ہفتہ وارتعطیل جمعے کے روز ہوتی تھی۔ لوگ حسب معمول اپنے دفاتر اور کاروبار میں مصروف تھے بچے اسکولوں کو جاچکے تھے جبکہ  زیادہ تر مرد گھروں میں نہیں تھے ۔ اس وقت کے کراچی کے غربی ضلعے کی مہاجر آبادی قصبہ کالونی اور علیگڑھ سوسایئٹی میں زندگی حسب معمول رواں دواں تھی۔اکثر گھروں  میں عورتیں  بچوں کو اسکول اور مردوں کو انکے کام کاج پر بھیج دینے کے بعد اپنے دن بھر کے کاموں میں مصرف ہوگئی تھیں۔دن کے تقریبا دس بجے تھے جب اچانک شور کی آوازیں آیئں اور ساتھ ہی فضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھی ۔پر رونق بازاروں میں بھگدڑ مچ گئی۔ آبادی کے ارد گرد پھیلی ہوئی پہاڑیوں سے اتر کر آنے والے وحشیوں کی مزاحمت کئے بغیر ہی تقریبا ڈیڑھ درجن سے زائد  عورتیں  ، بچے اور مردموت کی آغوش میں جا چکے تھے۔ اچانک ٹوٹ پڑنے والی قیامت نے انہیں اتنی مہلت ہی نہیں دی تھی کہ وہ کچھ سمجھ سکتے اور اپنا بچاؤ کر سکتے  ۔ یلغاریوں نے جو کلاشنکوف، رائفلوں اور خنجروں سے مسلح تھے گھروں میں گھس کر عورتوں، بچوں اور مردوں کو قتل کرنا، لوٹ مار کرنا اور معصوم بچیوں اور عورتوں کو بے آبرو کرنا شروع کردیا ۔  شیطان  کے پجاری  کسی مکان اور کسی دکان سے اپنا کام پورا کئے بغیر باہر نہیں آتے تھے۔ صبح دس بجے دنیا کے سب سے بڑے اور ترقی یافتہ شہروں میں سے ایک کی ایک پر رونق بستی میں شروع کیا جانے والا آگ و خون اور موت کا یہ کھیل سہہ پہر تین بجے تک جاری رہا اور پھر  اپنی خون کی پیاس نہتے معصوم شہریوں کےلہو سے بجھانے کے بعد یہ وحشی یہ سمجھتےہوئےکہ اب شائد کوئی نہیں بچا ہوگا لوٹ کا سامان لیکراوراپنے پیچھے مکانوں سے اٹھتا دھواں، گھروں اور گلیوں میں بہتا خون ، سسکتے ہوئے زخمیوں اور روتے ہوئے معصوم بچوں کو چھوڑ کر آہستہ آہستہ اپنی کمیں گاہوں کی طرف واپس ہونے لگے ۔
صبح دس بجے جب یہ بھیانک کھیل شروع ہوا تھا  تو علاقہ پولیس پہلے ہی سے غائب تھی ۔ کچھ لوگوں نے شہری انتطامیہ کو اور یہاں سے جواب نہ پاکر شہر میں موجود فوج کی کورکو کسی نہ کسی طرح اطلاع دی اور مدد مانگی لیکن جواب یہاں بھی ندارد ، کسی کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ساڑھے پانچ سے چھ گھنٹے جاری رہنے والے اس موت کے کھیل میں نہ شہری انتظامیہ نے اور نہ ہی فوج نے دخل اندازی کو مناسب جانا۔ شیطان برہنہ ناچ میں مصروف رہا اور انسانیت سسک سسک کر دم توڑتی رہی۔ شام ہوتے ہوتے کراچی بھر میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ قصبہ اور علیگڑھ میں پاکستان کی تاریخ کا بدترین قتل عام ہوا ہے جہاں گردو نواح کی پہاڑیوں سے اتر کر آنے والے بلوایئوں نے جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح ہوکر ایک بھری پری آبادی پر حملہ کیا ہے اور پانچ گھنٹے  سے زائد وقت تک انتہائی اطمینان سے بنا کسی مداخلت کے اندیشےکے بربریت کا وہ کھیل کھیلا ہے جسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
عوام صورتحال جاننے کیلئے ریڈیو ٹیون کرتے رہے لیکن   یہاں بھی آپکی فرمائش چل رہا تھا۔ کراچی کے عوام کے پیسوں پر پلنے والا سرکاری ٹیلے ویژن حسب معمول امیرالمؤمنین کی شان میں قصیدوں کی محفل سجائے بیٹھا تھا ۔ نہ تو پانچ بجے کے شہری بلیٹن میں اور نہ ہی آٹھ بجے کے مختصر خبروں کے دوران ہی کوئی اطلاع دی گئی۔ عوام تفصیلات جاننے کیلئے بیتاب و بیقرار تھے لہذا ٹی وی کے آگے ہی بیٹھے رہے کہ نو بجے کے خبرنامے میں تو ضرور کچھ نہ کچھ خبر ہوگی ۔ رات نو بجے امیرالمؤمنین کے زیر نگرانی چلنے والے سرکاری ٹیلے ویژن پر خبر نامے کے انتظار بیٹھے لوگوں کی آس دم توڑنے لگی جب خبر نامہ معمول کی خبریں دیتا رہا۔اور پھر  خبر نامے کےاختتام سے پہلے اسی روز لاہور کے چڑیا گھر میں مرجانے والی ہتھنی کے سوگ میں تقریبا تین منٹ طویل خبر دی گئی ،ہتھنی کے سوانح حیات پر روشنی ڈالی گئی اوراسکی المناکرحلت پرعوام کے تعزیتی پیغامات سنائے گئے ۔ بالآخر قصبہ اور علیگڑھ کی مہاجر آبادیوں میں بے دردی سے مار دیئے جانے والے معمولی کیڑے مکوڑوں کی باری بھی آہی گئی جب ڈیڑھ سطر کی ایک خبر میں کراچی میں کرفیو لگنے کی نوید سنا دی گئی ۔ سارا دن اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کےاعصاب توڑ دینے والے انتظار کے بعد اتنا ہی بتایا گیا کہ کراچی کے ضلع غربی کے علاقے علیگڑھ کالونی میں بد امنی کی صورتحال کے بعد تا اطلاع ثانی کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے یہاں کئی افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مہاجرو! اس ملک میں جسے تم نے بڑے چاؤ سے، بڑے ارمانوں سے اور بیس لاکھ جانوں کی قربانیاں دے کر بنایا تھا تمہاری یہ اوقات ہے! تین سو افراد کی قیمتی جانیں، تمہاری خواتین کی عزت و آبرواور تمہاری محنت ومشقت سےکمائی ہوئی املاک کی قیمت ایک مری ہوئی ہتھنی کی لاش سےبھی کم ہے۔